10 جولائی 2013 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر پٹرولیم رستم قاسمی نے توانائي کی غیر محفوظ فراہمی کا ایک سبب خطے میں سیاسی مداخلت کو قرار دیا ہے۔

ابنا: رستم قاسمی نے بدھ کے دن جرمنی کے شہر میونخ میں انرجی سیکورٹی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے مزید کہاکہ مشرق وسطی میں ان مداخلتوں کا تسلسل اور کشیدگي میں شدت نیز  تیل پر پابندی کا ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جانا دنیا میں انرجی کی سیکورٹی خطرے میں پڑنے کا ایک اہم سبب ہے۔ رستم قاسمی نے اس کانفرنس میں ایران مخالف غیر منصفانہ  سیاسی اور اقتصادی پابندیوں  کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان پابندیوں کی وجہ سے آزاد مالی اور ٹیکنالوجیکل ذرائع متاثر ہوئے ہیں۔ یورپی اقتصاد کی ایک خصوصیت توانائی کی محفوظ فراہمی پر تاکید ہے اور اس چیز کو تیل کے بڑے صارف ممالک کے اجلاسوں کے ایجنڈے میں ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں ترقی یافتہ صنعتی ممالک توانائی کی  حصول کے عمل کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانے کے لۓ  کثیرالجہات حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔  اس حکمت عملی میں مشرق وسطی اور خلیج فارس میں توانائی کے ذخائر پر انحصار کم کرنے  کے مقصد سے انرجی کے ذخائر کی جغرافیائي تقسیم  میں تنوع پیدا کرنا بھی شامل ہے۔ لیکن یہی پالیسی طویل مدت میں توانائی پیدا کرنے والے ممالک کے لۓ ایک طرح کے عدم تحفظ کا سبب بنتی ہے۔ در حقیقت توانائی کے صارف ممالک  کا زاویۂ نگاہ اس مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے جبکہ توانائي کی سیکورٹی کا دوسرا پہلو توانائي پیدا کرنے والے ممالک کے زاویۂ نگاہ سے متعلق ہے۔ توانائي کے تحقیقاتی مراکز کے مطالعے سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہےکہ قلیل مدت حتی درمیانی مدت میں بھی تیل اور گیس کے متبادل ذخائر تلاش کرنا ایک مشکل اور زیادہ اخراجات والا کام ہے۔ اس وقت تیل کے دریافت شدہ آدھے ذخائر پانچ ممالک سعودی عرب ، ایران ، عراق ، کویت اور متحدہ عرب امارات کے پاس ہیں۔ یہ تمام ممالک اوپیک کے رکن ہیں۔ اسی طرح گيس کے دریافت شدہ نصف سے زیادہ ذخائر بھی ایران ، روس اور قطر کے پاس ہیں۔ اگرچہ کوشش کی جارہی ہے بہت زیادہ سرمایہ کاری کر کے خلیج فارس سے باہر کے علاقے میں بھی تیل اور گیس کے ذخائر تلاش کۓ جارہے ہیں لیکن فوری طور پر خلیج فارس کے علاقے سے باہر تیل اور گیس کا متبادل پیدا کرنا بعید نظر آتا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس طرح کی تمام رکاوٹیں کھڑی کۓ جانے کے باوجود ایران نے اوپیک کے ایک رکن کے طور پر  تیل کی عالمی منڈیوں میں  استحکام پیدا کرنےکے علاوہ تیل اور گیس کے میدانوں میں بعض ایسے منصوبوں پر بھی عمل کیا ہے جن سے عالمی سطح پر توانائی کی  فراہمی  زیادہ محفوظ بنانے میں بھی مدد ملی ہے۔بہر حال یہ کہا جاسکتا ہے کہ توانائی کی سیکورٹی کا انحصار بڑی حد تک سیاسی استحکام اور سلامتی پر ہے۔ اس لۓ جب تک اقتصادی پابندیوں جیسے غیر معقول اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا اس وقت تک عالمی سطح پر توانائی کی سیکورٹی بدستور خطرات کی زد پر رہے گي۔ عربوں کی جانب سے تیل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کۓ جانے اور تیل کے ذریعے لگنے والے اس پہلے دھچکےکے بعد سیاسی اور اقتصادی حلقوں کی جانب سے اس بات پر تاکیدکی گئی کہ اوپیک اور تیل  برآمد کرنے والے ممالک کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لۓ تیل کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہۓ۔ماہرین بھی اس بات پر تاکید کر رہے ہیں کہ تیل ایک سیاسی حربہ نہیں ہے۔ لیکن سنہ انیس سو ستّر کے عشرے کے بعد کے برسوں میں یورپی ممالک نے توانائي کو ایک سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا۔ سنہ دو ہزار گیارہ سے ایران کے تیل پر یکطرفہ پابندیاں لگا دی گئيں۔ اور تیل کو ایک سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا گيا۔ بنابریں اس دہرے پن کا کیا جواز پیش کیا جاسکتا ہے؟ کیا صارف ممالک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تیل کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کریں لیکن تیل پیدا کرنے والے ممالک کو اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا کوئي حق نہیں ہے؟ اس دہرے رویے کی وجہ سے خطے میں امن کی برقراری کی بھاری سیاسی اور اقتصادی قیمت چکانی پڑے گي جو نہ توانائی پیدا کرنے والے ممالک کے مفاد میں ہے اور نہ ہی صارف ممالک کے مفاد میں۔

.......

/169